July 21, 2024

اردو

اردو

زبور 137- اسیر اسرائیلیوں کا نوحہ

اسیر اسرائیلیوں کا نوحہ - بابؔل کے برج - Zaboor 137 - زبور 137

ہم بابؔل کی ندیوں پر بَیٹھے

اور صِیُّوؔن کو یاد کر کے روئے۔

وہاں بید کے درختوں پر اُن کے وسط میں

ہم نے اپنی سِتاروں کو ٹانگ دِیا۔

کیونکہ وہاں ہم کو اسِیر کرنے والوں نے گِیت گانے کا حُکم دِیا

اور تباہ کرنے والوں نے خُوشی کرنے کا

اور کہا صِیُّوؔن کے گِیتوں میں سے ہم کو کوئی

گِیت سناؤ۔

ہم پردیس میں

خُداوند کا گِیت کَیسے گائیں؟

اَے یروشلیِؔم! اگر مَیں تُجھے بُھولُوں

تو میرا دہنا ہاتھ اپنا ہُنر بُھول جائے۔

اگر مَیں تُجھے یاد نہ رکھّوں

اگر مَیں یروشلیِؔم کو

اپنی بڑی سے بڑی خُوشی پر ترجِیح نہ دُوں

تو میری زُبان میرے تالُو سے چِپک جائے۔

اَے خُداوند! یروشلؔیِم کے دِن کو

بنی ادُوم کے خِلاف یاد کر

جو کہتے تھے اِسے ڈھا دو۔

اِسے بُنیاد تک ڈھا دو۔

اَے بابؔل کی بیٹی! جو ہلاک ہونے والی ہے

وہ مُبارک ہوگا جو تُجھے اُس سلُوک کا

جو تُو نے ہم سے کِیا بدلہ دے

وہ مُبارک ہوگا جو تیرے بچّوں کو لے کر

چٹان پر پٹک دے۔

آمین!

RELATED ARTICLES