July 22, 2024

اردو

اردو

خودکشی کرنا یا دوسروں کی جان لینا جائز کیوں نہیں ہے؟

خودکشی کرنا یا دوسروں کی جان لینا جائز کیوں نہیں ہے؟ - زندگی اور موت کا مالک

خودکشی کرنا یا دوسروں کی جان لینا جائز کیوں نہیں ہے؟

خُدا اکیلا زندگی اور موت کا مالک ہے۔ سوائے اپنی یا دوسروں کی حفاظت کی صورت میں ہم جان کی قربانی دے سکتے ہیں لیکن ایک اِنسان کو کسی دوسرے اِنسان کا قتل نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کی زندگی پر حملہ کرنا خُدا کے خلاف ایک ناپاک عمل کرنے کے برابر ہے۔ اِنسانی زندگی مقدس ہے اِس سے مُراد یہ ہے کہ یہ خُدا سے تعلق رکھتی ہے اور یہ خُدا کی ملکیت ہے۔ یہاں تک کہ ہماری خود کی زندگی خُدا کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔ خُدا نے خود ہمیں زندگی کا تحفہ دیا ہے اور صرف وہ ہی اِسے واپس لے سکتا ہے۔ خرُوج کی مقدس کتاب میں ترجمے کے ساتھ لکھا ہے کہ:

خرُوج 20 باب 13 آیت: ” تُو خُون نہ کرنا “۔

خُداوند آپ سب کو اپنی تمام برکات سے نوازے اور آپ سب کو زندگی کی تمام مشکلات سے دور رکھے۔ آپ یوں ہی خُدا کے فضل سے اپنی زندگیوں میں ترقی کرتے جائیں اور یسوع مسیح کے احکام پر عمل کریں۔ یسوع مسیح کے جلالی اور بابرکت نام میں آمین!

RELATED ARTICLES