July 14, 2024

اردو

اردو

کیا اِنسانوں کو خریدنا اور فروخت کرنا جائز ہے؟

کیا اِنساںوں کو خریدنا اور فروخت کرنا جائز ہے؟ - اِنسانی اعضاء کو مواد میں تبدیل کرنا

کیا اِنساںوں کو خریدنا اور فروخت کرنا جائز ہے؟

اِنسانوں کو اور یہاں تک کہ اِنسانی اعضاء کو مواد میں تبدیل یا خود کو مواد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ اِنسان خُدا سے تعلق رکھتا ہے اور اُسے خُدا کی طرف سے آزادی اور وقار ملا ہے۔ آج کے دور میں اِنسانوں کو خریدنا اور فروخت کرنا عام عمل ہے جو کہ جسم فروشی میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ ایک قابل مذمت عمل ہے۔ بائیوٹیک صنعت کے لئے اِنسانی اعضاء اور پیدا ہونے سے پہلے بچے کی سمگلنگ یا گود لینے کے حوالے سے بچوں کی سمگلنگ کرنا، فوج میں بچوں کی بھرتی کرنا، نااِنصافی سے اِنسانوں کو جسم فروشی اور غلامی کا شکار کرنا ہر طرف ظاہری طور پر موجود ہے۔

لوگوں کو اُن کی آزادی، وقار اور خود کے عظم کے حقوق سے یہاں تک کہ اُنہیں اُن کی زندگیوں سے بھی محروم کیا جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اُنہیں مواد کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ اُن کے مالک اُن سے مفاد حاصل کر سکیں۔ ہمیں کھیلوں کی ٹیموں میں اِنسانی سمگلنگ کو سختی سے روکنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بھی کھلاڑیوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے لیکن اِن میں کھلاڑیوں کی آزادانہ رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔

خُداوند آپ سب کو اپنی تمام برکات سے نوازے اور آپ سب کو زندگی کی تمام مشکلات سے دور رکھے۔ آپ یوں ہی خُدا کے فضل سے اپنی زندگیوں میں ترقی کرتے جائیں اور یسوع مسیح کے احکام پر عمل کریں۔ یسوع مسیح کے جلالی اور بابرکت نام میں آمین!

Facebook
Twitter
LinkedIn

RELATED ARTICLES