زبور 21- فتح یابی کے لئے شکرگزاری

1۔ اَے خُداوند! تیری قُوّت سے بادشاہ خُوش ہوگا اور تیری نجات سے اُسے نہایت شادمانی ہوگی۔ 2. تُو نے اُس کے دِل کی آرزُو پُوری کی ہے اور اُس کے مُنہ کی درخواست کو نامنظُور نہیں کِیا۔ (سِلاہ) 3۔ کیونکہ تُو اُسے عُمدہ برکتیں بخشنے میں پیش قدمی کرتا اور خالِص سونے کا تاج… Continue reading زبور 21- فتح یابی کے لئے شکرگزاری

زبور 18- داؤد کا فتح کا گیت

1۔ اَے خُداوند! اَے میری قُوّت! مَیں تُجھ سے مُحبّت رکھتا ہُوں۔ 2۔ خُداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا چُھڑانے والا ہے۔ میرا خُدا۔ میری چٹان جِس پر مَیں بھروسا رکھُّوں گا۔ میری سِپر اور میری نجات کا سِینگ۔ میرا اُونچا بُرج۔ 3۔ مَیں خُداوند کو جو سِتایش کے لائِق ہے پُکارُوں گا۔… Continue reading زبور 18- داؤد کا فتح کا گیت

زبور 12- مدد کے لئے التجا

1۔ اَے خُداوند! بچا لے کیونکہ کوئی دِین دار نہیں رہا اور امانت دار لوگ بنی آدم میں سے مِٹ گئے۔ 2۔ وہ اپنے اپنے ہمسایہ سے جُھوٹ بولتے ہیں۔ وہ خُوشامدی لبوں سے دورنگی باتیں کرتے ہیں۔ 3۔ خُداوند سب خُوشامدی لبوں کو اور بڑے بول بولنے والی زُبان کو کاٹ ڈالے گا۔ 4۔… Continue reading زبور 12- مدد کے لئے التجا

زبور 10- عدل و انصاف کے لئے فریاد

1۔ اَے خُداوند! تُو کیوں دُور کھڑا رہتا ہے؟ مُصِیبت کے وقت تُو کیوں چُھپ جاتا ہے؟ 2۔ شرِیر کے غرُور کے سبب سے غرِیب کا تُندی سے پِیچھا کِیا جاتا ہے۔ جو منصُوبے اُنہوں نے باندھے ہیں وہ اُن ہی میں گرفتار ہو جائیں۔ 3۔ کیونکہ شرِیر اپنی نفسانی خواہِش پر فخر کرتا ہے… Continue reading زبور 10- عدل و انصاف کے لئے فریاد

زبور 5- محافظت کے لئے دُعا

1۔ اَے خُداوند میری باتوں پر کان لگا! میری آہوں پر توجُّہ کر! 2۔ اَے میرے بادشاہ! اَے میرے خُدا! میری فریاد کی آواز کی طرف مُتوجِّہ ہو کیونکہ مَیں تُجھ ہی سے دُعا کرتا ہُوں۔ 3۔ اَے خُداوند! تُو صُبح کو میری آواز سُنے گا۔ مَیں سویرے ہی تُجھ سے دُعا کر کے اِنتظار… Continue reading زبور 5- محافظت کے لئے دُعا

زبور 1- حقیقی مُبارک حالی

1۔ مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتا 2۔ بلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔ 3۔ وہ اُس درخت کی مانِند… Continue reading زبور 1- حقیقی مُبارک حالی